حدیث نمبر: 31023
٣١٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة (عن داود) (١) ⦗٧٣⦘ عن الشعبي عن علقمة قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إن رجلًا منا تزوج امرأة (و) (٢) لم يفرض لها ولم يجامعها حتى مات، فقال ابن مسعود: ما سئلت عن شيء منذ فارقت النبي ﷺ أشد علي من هذا، (قال) (٣): فتردد فيها شهرًا فقال: سأقول فيها برأيي فإن كان صوابًا فمن اللَّه، وإن كان خطأ فمني والشيطان، أرى أن لها مهر نسائها لا وكس ولا شطط، ولها الميراث، وعليها عدة المتوفى عنها زوجها، فقام ناس من أشجع فقالوا: نشهد أن رسول اللَّه ﷺ قضى بمثل الذي (قضيت) (٤) في امرأة منا (يقال) (٥) لها (بَرْوع) (٦) ابنة واشق قال: فما رأيت ابن مسعود فرح (كما) (٧) فرح يومئذ (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ ہمارے ایک آدمی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور ابھی نہ اس کا مہر مقرر کیا تھا اور نہ ہی ہمبستری کی تھی کہ وہ آدمی مرگیا ؟ تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب سے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوا ہوں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا جو اس سوال سے زیادہ بھاری ہو ! عکرمہ فرماتے ہیں کہ آپ اس مسئلہ میں ایک مہینہ تک شک و شبہ میں مبتلا رہے پھر فرمایا کہ عنقریب میں اس مسئلہ میں اپنی ذاتی رائے پیش کرتا ہوں پس اگر وہ درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوگی اور اگر غلط ہوئی تو وہ رائے میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہوگی، میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کو مہر مثلی ملے گا نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، اور اس عورت کو وراثت بھی ملے گی اور اس عورت پر فوت شدہ زوج کی عدت گزارنا واجب ہوگی تو قبیلہ اشجع کے چند لوگ کھڑے ہوئے اور کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری ایک عورت کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا جو آپ نے فیصلہ کیا ہے اور اس عورت کا نام بِرْوع بنت واشق تھا۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود کو جتنا اس دن خوش دیکھا کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا تھا۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [ب، هـ].
(٣) في [أ، ب، ط، ك]: (فقال).
(٤) في [أ، ب، ط]: (قضى).
(٥) في [ط]: (فقال).
(٦) في [ط]: (بردع).
(٧) في [أ، ب، ط، هـ]: (بما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31023
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد وابنه (١٨٤٦٣)، والنسائي ٦/ ١٢٢، وابن حبان (٤١٠١)، والحاكم ٢/ ١٨٠، والظهراني ٢٠/ (٥٤٢)، والبيهقي ٧/ ٢٤٥، وأخرجه مرسلًا عبد الرزاق (٨٩٩)، وسعيد بن منصور (٩٣٠)، والنسائي في الكبرى (٥٥٢١)، وبنحوه من طريق إبراهيم عن علقمة عن ابن مسعود أخرجه أبو داود (٢١١٥)، والترمذي (١١٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31023، ترقيم محمد عوامة 29680)