مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الرجل يقذف ويدعي بينة غيبا باب: اس آدمی کے بیان میں جو تہمت لگائے اور غائب بینہ کا دعوے کرے
حدیث نمبر: 30985
٣٠٩٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي (علاثة) (١) محمد بن عبد اللَّه (العقيلي) (٢) (قال) (٣): قذف رجل رجلًا فرفعه إلى عمر بن عبد العزيز، فادعى ⦗٥٩⦘ القاذف البينة على ما قال له: بأرمينية -يعني غيبًا- فقال عمر بن عبد العزيز: الحد لا يؤخر، لكن إن جئت ببينة قبلت شهادتهم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو علاثہ محمد بن عبداللہ عقیلی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی آدمی پر تہمت لگائی۔ سو اس شخص کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سامنے پیش کردیا گیا، پس تہمت لگانے والے نے بینہ کے متعلق دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے اسے آرمینیہ میں بتلایا تھا یعنی وہ غائب ہے۔ اس پر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : حد کو مؤخر نہیں کیا جاسکتا، لیکن اگر تم بینہ لے آئے تو میں ان کی گواہی قبول کرلوں گا۔
حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (غلامة).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].