مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في النصراني يسلم ثم يرتد باب: اس عیسائی کے بارے میں جو اسلام لائے پھر وہ مرتد ہو جائے
٣٠٩٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن سعيد بن (حيان) (١) عن عمار الدهني قال: حدثني أبو الطفيل قال: كنت في الجيش ⦗٥١⦘ (الذين) (٢) بعثهم علي بن أبي طالب إلى بني ناجية، قال: فانتهينا إليهم فوجدناهم على ثلاث فرق قال: فقال: أميرنا لفرقة منهم ما أنتم؟ قالوا: نحن قوم من النصارى لم نر دينًا أفضل من ديننا فثبتنا عليه، فقال: اعتزلوا، ثم قال لفرقة أخرى: ما أنتم؟ قالوا: نحن قوم كنا نصارى فأسلمنا فثبتنا على الإسلام، فقال: اعتزلوا، ثم قال للثالثة: ما أنتم؟ فقالوا: نحن قوم كنا نصارى فأسلمنا ثم رجعنا، فلم نر دينًا أفضل من ديننا الأول، فتنصرنا، فقال لهم: أسلموا، فأبوا، فقال لأصحابه: إذا مسحت (٣) رأسي ثلاث مرات فشدوا عليهم، ففعلوا فقتلوا المقاتلة وسبوا الذرية (٤).حضرت ابوالطفیل فرماتے ہیں کہ میں اس لشکر میں تھا جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا، آپ فرماتے ہیں : پس ہم ان کے پاس پہنچ گئے۔ تو ہم نے ان لوگوں کو تین گروہوں میں پایا، پس ہمارے امیر نے ان میں سے ایک گروہ سے پوچھا ! تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم لوگ عیسائی تھے ہم نے اپنے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا۔ پس ہم اس پر ثابت قدم رہے۔ اس پر امیر نے کہا : تم الگ ہو جاؤ۔ پھر اس نے ایک دوسرے گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم لوگ عیسائی تھے پس ہم نے اسلام قبول کرلیا پھر ہم اسلام پر ثابت قدم رہے۔ تو امیر نے کہا : تم بھی الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے تیسرے گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ کہنے لگے ! ہم لوگ عیسائی تھے۔ پس ہم اسلام لے آئے پھر ہم نے رجوع کرلیا۔ پس ہم نے اپنے پہلے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا۔ سو ہم نے عیسائیت اختیار کرلی سو امیر نے ان سے کہا : تم اسلام لے آؤ۔ ان لوگوں نے انکار کردیا تو امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جب میں تین مرتبہ اپنے سر پر ہاتھ پھیر لوں تو تم ان پر حملہ کردینا۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا اور لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔