مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في النصراني يسلم ثم يرتد باب: اس عیسائی کے بارے میں جو اسلام لائے پھر وہ مرتد ہو جائے
حدیث نمبر: 30952
٣٠٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن سماك (عن) (١) (ابن عبيد) (٢) (بن) (٣) (الأبرص) (٤) عن علي بن أبي طالب أنه أتي برجل كان نصرانيًا فأسلم ثم (تنصر) (٥)، قال: فسأله عن (كلمة) (٦) فقال له، فقام إليه علي فرفسه برجله، فقام الناس إليه فضربوه حتى قتلوه (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عبید بن ابرصی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو عیسائی تھا پس اس نے اسلام قبول کرلیا پھر اس نے عیسائیت اختیار کرلی۔ راوی کہتے ہیں آپ نے اس سے اس بات کے متعلق پوچھا : تو اس نے آپ کو بتادیا۔ سو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے سینہ پر اپنی لات ماری تو لوگ بھی کھڑے ہو کر اسے مارنے لگے یہاں تک کہ اسے قتل کردیا۔
حواشی
(١) سقط من: [ب، ك].
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، ك].
(٣) في [أ، ب، ط]: (أبي)، وسقط من: [ك].
(٤) في [ح]: (الأحوص).
(٥) في [ك]: (ص).
(٦) في [ع]: (حكمة).
(٧) مجهول؛ لجهالة ابن عبيد بن الأبرص.