حدیث نمبر: 30890
٣٠٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب قال: سألت الزهري عن امرأة زنت وهي يهودية أو نصرانية أو مجوسية، ثم أسلمت فقذفها رجل، فقال ابن شهاب: ليس على من قذفها حد، ولكن (ينكل) (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زھری سے ایک عورت کے متعلق سوال کیا جس نے زنا کیا تھا درآنحالیکہ وہ یہودی یا عیسائی یا آتش پرست تھی پھر وہ اسلام لے آئی۔ سو کسی آدمی نے اس پر تہمت لگا دی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ تو حضرت ابن شہاب نے فرمایا اس عورت پر تہمت لگانے والے پر حد جاری نہیں ہوگی لیکن اسے عبرتناک سزا دی جائے گی۔

حواشی
(١) في [جـ]: بياض.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30890
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30890، ترقيم محمد عوامة 29555)