مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الرجل يضرب في الشراب يطاف به أو ينصب للناس باب: اس آدمی کے بیان میں جس کو شراب پینے کی سزا میں مارا گیا: کیا اس کو چکر لگوایا جائے گا یا لوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 30886
٣٠٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل بن سميع قال: سمعت مالك بن عمير يقول: سمعت عتاب بن سلمة يقول: سألني عمر بن الخطاب عن رجل قال: رأيته يشربها؟ فقلت: لم أره يشربها، ولكن رأيته يقيها، قال: فضربه الحد ونصبه للناس (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عتاب بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے مجھ سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا کہ کیا تم نے اس شخص کو شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے کہا : میں نے اس کو شراب پیتے ہوئے نہیں بلکہ اس کو شراب کی قیٔ کرتے ہوئے دیکھا ہے، راوی کہتے ہیں : تو آپ نے اس پر حد جاری کی اور اس کو لوگوں کے سامنے کھڑا کیا۔
حواشی
(١) مجهول؛ لجهالة مالك بن عمير وعتاب بن سلمة.