مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
فيما يحقن به الدم ويرفع به عن الرجل القتل باب: ان وجوہات کا بیان جن کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور آدمی سے قتل کی تخفیف ہو جاتی ہے
٣٠٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة قال: لما ارتد من ارتد على عهد أبي بكر أراد أبو بكر أن يجاهدهم، فقال عمر: (أتقاتلهم) (١) وقد سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من شهد لا إله إلا اللَّه وأن محمدًا رسول اللَّه، حرم (ماله) (٢) إلا بحق، (و) (٣) حسابهم على اللَّه (تعالى) (٤) " فقال أبو بكر: (أنا) (٥) (لا أقاتل) (٦) من فرق بين الصلاة والزكاة؟ واللَّه لأقاتلن من فرق بينهما حتى أجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه وكان رشدًا، فلما ظفر بمن ظفر به منهم قال: اختاروا مني خصلتين: إما (حرب) (٧) ⦗٣٥⦘ (مجلية) (٨) وإما الخطة المخزية، قالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها فما الخطة المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا أنهم في الجنة وعلى قتلاكم أنهم في النار، ففعلوا (٩).حضرت زھری فرماتے ہیں کہ حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ارشاد فرمایا : جب مرتد ہوگئے وہ لوگ جو حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں مرتد ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : کیا تم ان سے قتال کرو گے حالانکہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ تو اس کا مال حرام ہوگیا مگر کسی حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : بیشک میں قتال کروں گا اس شخص سے جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا، اللہ کی قسم ! میں ضرور قتال کروں گا اس شخص سے جو ان دونوں کے درمیان فرق کرے گا، یہاں تک کہ میں ان دونوں کو اکٹھا کر دوں۔ حضرت عمر فرماتے ہیں : سو ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا اور وہ ہدایت پر تھے، پس جب وہ کامیاب ہوگئے ان لوگوں کی مدد سے جنہوں نے ان کے ساتھ کوشش کی تھی۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ میری طرف سے دو باتیں اختیار کرلو : یا تو خوفناک جنگ یا پھر رسوا کردینے والا صلح کا منصوبہ۔ ان لوگوں نے کہا : اس خوفناک جنگ کو تو ہم نے پہچان لیا۔ پس یہ رسوا کردینے والا منصوبہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم ہمارے مقتولین پر گواہی دو کہ بیشک وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین پر گواہی دو کہ بیشک وہ جہنم میں ہیں۔ پس انہوں نے ایسا کیا۔