مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
فيما يحقن به الدم ويرفع به عن الرجل القتل باب: ان وجوہات کا بیان جن کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور آدمی سے قتل کی تخفیف ہو جاتی ہے
٣٠٨٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر رجل من بني سليم على نفر من أصحاب رسول اللَّه ﷺ ومعه غنم، (فسلم) (١) عليهم فقالوا: ما سلم عليكم إلا ليتعوذ منكم، فعمدوا إليه فقتلوه، وأخذوا غنمه فأتوا بها رسول اللَّه ﷺ، فأنزل اللَّه: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ ⦗٣٢⦘ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ﴾، إلى آخر الآية (٢).حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ قبیلہ بنو سلیم کے ایک آدمی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ پر گزر ہوا درآنحالیکہ اسکے پاس بھیڑ بکریاں بھی تھیں تو اس نے ان کو سلام کیا۔ پس وہ کہنے لگے : اس نے تمہیں سلام نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ تم سے بچ جائے، سو انہوں نے اس کا ارادہ کیا اور اس کو قتل کردیا اور اس کی بھیڑ بکریاں لے لیں۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے۔ اس پر اللہ رب العزت نے یہ آیت اتاری : ” اے ایمان والو ! جب تم نکلو (جہاد کے لیے) اللہ کی راہ میں تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تم کو سلام کرے کہ تو مومن نہیں ہے کیا تم دنیاوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ سو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ “ (الخ)