مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
فيما يحقن به الدم ويرفع به عن الرجل القتل باب: ان وجوہات کا بیان جن کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور آدمی سے قتل کی تخفیف ہو جاتی ہے
٣٠٨٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن حبيب ابن أبي عمرة عن سعيد بن جبير قال: خرج المقداد بن الأسود في سرية، فمروا ⦗٣١⦘ برجل في (غنيمة له) (٢) فأرادوا قتله فقال: لا إله إلا اللَّه، فقال المقداد: (ود) (٣) لو (فرّ بأهله) (٤) وماله، قال: فلما قدموا (ذكروا) (٥) ذلك للنبي ﷺ (٦) فنزلت: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ قال: الغنيمة، ﴿فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ﴾ قال: تكتمون إيمانكم من المشركين ﴿فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ﴾ فأظهر الإسلام (﴿فَتَبَيَّنُوا﴾) (٧) وعيدًا من اللَّه ﴿إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴾ (٨) [النساء: ٩٤].حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسود کسی لشکر میں نکلے سو ان لوگوں کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو اپنے ریوڑ میں تھا۔ ان لوگوں نے اس کو قتل کرنا چاہا تو اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا، اس پر حضرت مقداد نے فرمایا : وہ چاہتا ہے کہ اگر وہ اپنے گھر والوں اور اپنے مال کو لے کر بھاگ جائے تو اچھا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس جب یہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” اے ایمان والو ! جب نکلو تم (جہاد کے لیے) اللہ کی راہ میں تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو کرے تم کو سلام کہ نہیں ہے تو مومن، کیا حاصل کرنا چاہتے ہو تم ساز و سامان دنیاوی زندگی کا ؟ آپ نے فرمایا : مراد بکری کا ریوڑ ہے، ترجمہ ” تو اللہ کے ہاں غنیمتیں ہیں بہت، ایسے تو تم اسلام سے پہلے تھے۔ “ فرمایا : تم اپنے ایمان کو مشرکنم سے چھپاتے تھے۔ ترجمہ ” پھر اللہ نے تم پر احسان کیا مراد پس اسلام کو غلبہ دیا۔ ترجمہ ” لہٰذا خوب تحقیق کیا کرو “ فرمایا : اللہ کی طرف سے وعید ہے۔ ترجمہ ” بیشک اللہ ہر اس بات سے جو تم کرتے ہو پوری طرح باخبر ہے۔