مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
فيما يحقن به الدم ويرفع به عن الرجل القتل باب: ان وجوہات کا بیان جن کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور آدمی سے قتل کی تخفیف ہو جاتی ہے
٣٠٨٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر سليمان بن (حيان) (١) عن الأعمش عن أبي ظبيان عن أسامة قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ في سرية فصبحنا (الحرقات) (٢) من جهينة فأدركت رجلًا فقال: لا إله إلا اللَّه فطعنته، فوقع في نفسي من ذلك، فذكرته للنبي ﷺ (٣) فقال: رسول اللَّه ﷺ (٤) قال: "لا إله إلا اللَّه وقتلته؟ " قال: قلت: يا رسول اللَّه، إنما (قالها) (٥) فرقًا من (السلاح) (٦) (قال: "أفلا) (٧) شققت عن قلبه حتى تعلم قالها أم لا؟ " قال: فما زال يكررها علي حتى تمنيت أني أسلمت يومئذ (٨).حضرت ابو ظبیان فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا ہم نے قبیلہ جہینہ کے باغات کے پاس صبح کی تو مجھے ایک آدمی ملا اس نے کہا : لا الہ الا اللہ پس میں نے اسے نیزہ مار دیا، پھر اس بارے میں میرے دل میں بےچینی پیدا ہوئی، میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے لا الہ الا اللہ پڑھا اور پھر بھی تو نے اسے قتل کردیا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے تو یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا تھا ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے اس کا دل کیوں نہیں چیر لیا تاکہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ خوف سے پڑھا ہے یا نہیں ؟ آپ فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل مجھ پر یہ بات دھراتے رہے یہاں تک کہ مجھے خواہش ہوئی کہ میں نے آج کے دن ہی اسلام قبول کیا ہوتا۔