مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في القوم ينقب عليهم فيستغيثون فيجدون قوما يسرقونه فيؤخذون (معهم) (بعض المتاع) باب: ان لوگوں کے بیان میں جن پر نقب لگائی گئی سو انہوں نے مدد کے لیے پکارا تو انہوں نے ایسے لوگوں کو پایا جنہوں نے چوری کی پس ان کو پکڑ لیا گیا درانحالیکہ کچھ کے پاس وہ سامان تھا
حدیث نمبر: 30855
٣٠٨٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن عامر في رجل أخذ من رجل ثوبًا فقال: سرقته؟ فقال: إنما أخذته بحق لي عليه، فقال الشعبي: لا حد عليه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ حضرت عامر سے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے کسی آدمی سے کپڑا لیا، پس وہ کہنے لگا : تو نے یہ چوری کیا ہے، اس نے کہا : بیشک میں نے یہ کپڑا لیا ہے اپنے اس حق کے عوض جو اس پر لازم تھا، تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت شعبی نے فرمایا : اس پر حد جاری نہں ا ہوگی۔