مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في القوم ينقب عليهم فيستغيثون فيجدون قوما يسرقونه فيؤخذون (معهم) (بعض المتاع) باب: ان لوگوں کے بیان میں جن پر نقب لگائی گئی سو انہوں نے مدد کے لیے پکارا تو انہوں نے ایسے لوگوں کو پایا جنہوں نے چوری کی پس ان کو پکڑ لیا گیا درانحالیکہ کچھ کے پاس وہ سامان تھا
٣٠٨٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني معمر (عن خصيف) (١) قال: فقد قوم متاعا لهم من بيتهم، فرأوا نقبا في البيت فخرجوا ينظرون فإذا رجلان يسعيان، فأدركوا أحدهما معه متاعهم، وأفلتهم الآخر، قال: ⦗٢٥⦘ (فأتينا) (٢) به فقال: لم أسرق شيئًا، وإنما أستأجرني هذا الذي أفلت (و) (٣) دفع إليَّ هذا المتاع لأحمله له، لا أدري من أين جاء به؟ قال خصيف: فكتب به إلى عمر بن عبد العزيز فكتب أن (ينكله) (٤) (ويخلده) (٥) السجن، ولا يقطعه.حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت خصیف نے ارشاد فرمایا : کچھ لوگوں نے اپنا کچھ سامان گھر سے گم پایا انہوں نے گھر میں نقب لگی دیکھی، تو وہ دیکھنے کے لیے نکلے، دو آدمیوں کو چلتے ہوئے دیکھا، انہوں نے ان میں سے ایک کو پکڑ لیا جس کے پاس سامان تھا اور دوسرا ان سے جان چھڑا کر بھاگ گیا۔ وہ لوگ اسے لے آئے، وہ کہنے لگا : میں نے کوئی چیز چوری نہیں کی، مجھے تو اس شخص نے اجرت پر رکھا تھا جو بھاگ گیا اور اس نے یہ سامان میرے حوالہ کیا تھا تاکہ میں اس کو اٹھا لوں۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے لایا تھا ؟ حضرت خصیف نے فرمایا : اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا گیا : آپ نے جواب لکھا : اس کو سخت سزا دی جائے گی اور اس کو جیل میں ڈال دیا جائے گا اور اس کا ہاتھ نہیں کٹے گا۔