مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الرجل يقول: زنيت بفلانة، ما عليه؟ باب: اس آدمی کے بیان میں جو یوں کہہ دے: میں نے فلاں عورت سے زنا کیا ہے، اس پر کیا سزا لاگو ہوگی؟
٣٠٧٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن عطاء بن يسار أن ماعز بن مالك أتى النبي ﵇ (١) فأقر على نفسه بالزنا، قال: "ويمن؟ " قال: بفلانة مولاة ابن فلان، فأرسل إليها فأنكرت، فخلى سبيلها، وأخذه بما أقر على نفسه، ولم يذكر أنه جلده حد الفرية فيها (٢).حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے خود زنا کا اقرار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ! کس کے ساتھ ؟ انہوں نے کہا : فلاں عورت کے ساتھ جو ابن فلاں کی باندی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کی طرف قاصد بھیجا اس نے انکار کردیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور ان کو پکڑ لیا جس نے خود زنا کا اقرار کیا تھا اور یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تہمت کی حد لگائی تھی۔