حدیث نمبر: 30759
٣٠٧٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن المجالد عن الشعبي عن سويد بن غفلة أن رجلًا من أهل الذمة من نبيط أهل الشام نخس بامرأة على دابة، فلم (تقع) (١) فدفعها بيده فصرعها، فانكشفت عنها ثيابها فجلس ليجامعها، فرفع إلى عمر بن الخطاب وقامت عليه البينة، فأمر به فصلب، وقال: ليس على هذا عاهدنكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ایک ذمی آدمی نے جس کا تعلق شام کے نبطی قبیلہ سے تھا اس نے ایک عورت کی پہلو میں لکڑی ماری جو سواری پر سوار تھی پس وہ نیچے نہیں گری تو اس نے اس کو ہاتھ سے دھکا دیا اور اسے نیچے گرادیا اور اس عورت کے کپڑے کھل گئے۔ پھر وہ بیٹھ گیا تاکہ اس سے جماع کرلے پس اس شخص کو حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں پیش کیا گیا اور اس پر بینہ بھی قائم ہوگیا پھر آپ کے حکم سے اس کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور آپ نے فرمایا : اس کام پر ہم نے تم سے معاہدہ نہیں کیا تھا !

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (يقع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30759
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ مجالد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30759، ترقيم محمد عوامة 29435)