مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الشهادة على الزنا، كيف هي؟ باب: زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی؟
٣٠٧٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن أبي خلدة قال: لقيني سعيد بن (أرطبان) (١) عم (ابن عون) (٢) فقال: (أتريد) (٣) أن تأتي أبا العالية؟ (قلت) (٤): نعم، قال: فقل له: شهد الحسن وابن سيرين وثابت البناني على امرأة ورجل أنهما زنيا، وأقرت المرأة وأنكر الرجل، فسألت أبا العالية عن ذلك فقال: ⦗٥١٢⦘ لقيت رجلًا من أهل الأهواء يَجلِد الحسنَ ثمانين ومحمدا ثمانين وثابتا ثمانين، وترجم المرأة باعترافها، ويذهب الرجل ليس عليه شيء.حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ارطبان جو حضرت ابن عون کے چچا ہیں ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی وہ کہنے لگے کیا تمہارا حضرت ابو العالیہ کے پاس جانے کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں انہوں نے کہا ! تم ان سے کہنا حسن بصری ، حضرت ابن سیرین اور حضرت ثابت بنانی ان سب حضرات نے ایک آدمی اور ایک عورت کے خلاف گواہی دی ہے کہ ان دونوں نے زنا کیا ہے اور اس عورت نے اقرار کرلیا اور آدمی نے انکار کردیا تو کیا حکم ہے ؟ راوی کہتے ہیں، پس میں نے حضرت ابو العالیہ سے اس کے متعلق سوال کیاٖ انہوں نے فرمایا : تمہاری نفس پرستوں میں سے کسی آدمی سے ملاقات ہوئی ہے حسن بصری کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور محمد کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور ثابت بنانی کو اسی کوڑے اور اس عورت کو اعتراف کرنے کی وجہ سے سنگسار کردیا جائے گا اور آدمی چلا جائے گا اور اس پر کوئی سزا لاگو نہیں ہوگی۔