حدیث نمبر: 30745
٣٠٧٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عوف عن قسامة بن زهير قال: لما كان من شأن أبي بكرة والمغيرة بن شعبة الذي كان، قال أبو (بكرة) (١): (اجتنب) (٢) أو تنح عن صلاتنا، فإنا لا نصلي خلفك، قال: فكتب (إلى) (٣) عمر في شأنه، قال: فكتب (عمر) (٤) إلى (المغيرة) (٥): أما بعد، فإنه قد رقى إلي من حديثك حديثًا (٦)، فإن يكن مصدوقا عليك (فلأن تكون) (٧) مت قبل اليوم خير لك، قال: فكتب إليه وإلى الشهود: أن يقبلوا إليه، فلما انتهوا إليه دعا الشهود، فشهدوا، فشهد أبو بكرة وشبل ابن معبد وأبو عبد اللَّه نافع، (قال) (٨): فقال عمر حين (شهد) (٩) هؤلاء الثلاثة: (أودى) (١٠) المغيرة أربعة، وشق على عمر شأنه جدًا، ⦗٥١١⦘ فلما قام زياد قال: (لن) (١١) تشهد إن شاء اللَّه إلا بحق، ثم شهد (فقال) (١٢): أما الزنا فلا أشهد به، ولكني (قد) (١٣) رأيت أمرًا قبيحًا، فقال عمر: اللَّه أكبر حدوهم، فجلدوهم، فلما فرغ من جلد أبي بكرة قام أبو بكرة فقال: أشهد أنه زان، (فهم) (١٤) عمر (أن) (١٥) يعيد عليه الحد، فقال علي: إن جلدته فارجم صاحبك (١٦)، فتركه فلم يجلد (في) (١٧) قذف مرتين بعد (١٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قسامہ بن زھیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کا معاملہ ہوا تھا تو وہ اس طرح تھا حضرت ابو بکرہ نے کہا : دور رہو ہماری نمازوں سے بیشک ہم تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے سو حضرت مغیرہ نے ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا : حضرت عمر نے حضرت مغیرہ کو جواب لکھا کہ : حمدو صلوٰۃ کے بعد بیشک اس نے مجھے تمہاری باتوں میں سے ایک بات پہنچائی ہے پس اگر وہ تمہارے خلاف سچی ہے تو ضرور تمہارا آج کے دن سے پہلے مرجانا تمہارے لیے بہتر تھا۔ اور پھر آپ نے ان کو اور گواہوں کو خط لکھا کہ وہ سب میرے پاس آئیں۔ پس جب وہ سب لوگ حضرت عمر کے پاس پہنچ گئے تو آپ نے گواہوں کو بلایا سو انہوں نے گواہی دی پس حضرت ابو بکرہ ، حضرت شبل بن معبد اور ابو عبداللہ نافع نے گواہی دی راوی کہتے ہیں : جب یہ تینوں گواہی دے چکے تو حضرت عمر نے فرمایا : مغیرہلاک ہوگیا چوتھے آدمی آئے ! اور حضرت عمر پر ان کی یہ حالت بہت بھاری گزری۔ سو جب زیاد کھڑا ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی پھر اس نے گواہی دی اور کہا : جہاں تک زنا کا تعلق ہے تو میں اس کی گواہی نہیں دیتا لیکن تحقیق میں نے فحش معاملہ دیکھا ہے اس پر حضرت عمر نے فرمایا : اللہ اکبر ان تینوں کو کوڑے مارو سو آپ نے ان کو کوڑے مارے پس جب حضرت ابو بکرہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک وہ زانی ہے ! سو حضرت عمر ان پر دوبارہ حد جاری کرنے کے لیے جانے لگے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم اس کو کوڑے مارتے ہو تو اپنے ساتھی کو بھی سنگسار کرو ! پس حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا اور ایک تہمت میں دو مرتبہ اس کے بعد کوڑے نہیں مارے گئے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (بكر).
(٢) في [ط]: (إخشب).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط].
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، ب، ط]: (المدينة).
(٦) كذا بالنصب في النسخ.
(٧) في [أ، ب]: (فلا يكون)، وفي [هـ]: (فلأن يكون).
(٨) سقط من: [ط، هـ].
(٩) في [أ، ب، جـ، ك، ط]: (شهدوا).
(١٠) في [أ، هـ]: (أود).
(١١) في [هـ]: (إن)، وفي [ط]: (لم).
(١٢) في [ط، هـ]: (قال).
(١٣) سقط من: [ط، هـ].
(١٤) في [جـ، ك]: (فذهب).
(١٥) سقط من: [جـ، ك].
(١٦) في هامش [أ]: صاحبك يعني المغيرة، وذلك أنه إذا ترتب حد القذف مرة أخرى بسبب قذفه مرة أخرى بعد الحد، كان ذلك دليلًا على أن قذفه الأخير بمثابة شاهد رابع، وبالشهود الأربعة يقوم الرجم على المغيرة لا محالة، واللَّه أعلم.
(١٧) في [هـ]: (فما).
(١٨) منقطع؛ قسامة بن زهير لم يدرك الواقعة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30745
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30745، ترقيم محمد عوامة 29421)