مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
من قال: إذا فجرت -وهي حامل- انتظر بها حتى تضع، ثم ترجم باب: جو یوں کہے: جب عورت نے بدکاری کی درانحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
٣٠٧٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن أشياخه أن امرأة غاب عنها زوجها ثم جاء وهي حامل فرفعها إلى عمر، فأمر برجمها فقال معاذ: إن يكن لك عليها سبيل فلا سبيل لك على ما في بطنها، فقال عمر: احبسوها حتى تضع، فوضعت غلامًا له ثنيتان، فلما رآه أبوه قال: ابني (ابني) (١) فبلغ ذلك عمر فقال: عجزت النساء أن يلدن مثل معاذ، لولا معاذ هلك عمر (٢).حضرت ابو سفیان اپنے شیوخ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند غائب ہوگیا تھا پھر وہ واپس آیا اس حال میں کہ اس کی بیوی حاملہ تھی سو اس نے اس عورت کو حضرت عمر کے سامنے پیش کردیا آپ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اس پر حضرت معاذ نے فرمایا : اگر چہ آپ کے پاس اس عورت کے خلاف جواز موجود ہے لیکن جو بچہ اس کے پیٹ میں موجود ہے اس کے خلاف تو آپ کے پاس کوئی جواز نہیں ہے، تو حضرت عمر نے فرمایا : اس عورت کو قید کردو یہاں تک کہ وہ بچہ جن دے اس عورت نے بچہ جنا درآنحالیکہ اس کے دو دانت تھے۔ جب اس کے باپ نے اسے دیکھا تو کہنے لگا۔ میرا بیٹا میرا بیٹا یہ خبر حضرت عمر کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : عورتیں حضرت معاذ جیسے لوگ پیدا کرنے سے عاجز آگئی ہیں۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔