حدیث نمبر: 30727
٣٠٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن الحسن قال: جاءت امرأة من بارق إلى (رسول) (١) اللَّه ﷺ (٢) فقالت: إني قد زنيت فأقم فيَّ حد اللَّه، قال: فردها النبي ﵇ حتى شهدت على نفسها شهادات، فقال لها النبي ﷺ (٣): "ارجعي" (٤)، فلما وضعت حملها أمرها النبي ﷺ فتطهرت ولبست أكفانها ثم أمر بها فرجمت، فأصاب خالدَ بن الوليد من دمها فسبها، فنهاه النبي ﷺ فقال: "لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لقبل منه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حسن بصری فرماتے ہیں کہ بارق مقام سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے بارے میں اللہ کی سزا نافذ فرما دیں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لوٹا دیا یہاں تک کہ اس نے اپنے نفس کے خلاف بہت سی گواہیاں دیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم واپس جاؤ پس جب اس نے اپنا حمل وضع کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا تو وہ پاک ہوگئی اور اس نے اپنا کفن پہن لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اسے سنگسار کردیا گیا اس کا کچھ خون حضرت خالد بن ولید کو لگ گیا تو آپ نے اس کو برا بھلا کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا : تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر چنگی وصول کرنے والا ایسی توبہ کرتا تو اس کی توبہ قبول کرلی جاتی۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (النجي).
(٢) في [ك]: (عليه سلم).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) في [ب]: (ارجع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30727
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه هناد في الزهد (٨٩١)، وأبو داود في المراسيل (٢٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30727، ترقيم محمد عوامة 29404)