مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في البكر والثيب ما يصنع بهما إذا فجرا؟ باب: باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں؟
٣٠٧٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه ابن عبد اللَّه عن أبي هريرة وزيد بن خالد وشبل أنهم قالوا: كنا عند النبي ﷺ، فقام رجل فقال: أنشدك (اللَّه) (١) ألا قضيت بيننا بكتاب اللَّه، فقال خصمه -وكان أفقه منه-: اقض بيننا بكتاب اللَّه وائذن لي حتى أقول، قال: "قل" قال: إن ابني كان عسيفًا (على هذا) (٢) وإنه زنى بامرأته فافتديت منه بمائة (شاة) (٣) وخادم، فسألت رجالًا من أهل العلم فأُخبرت أن على ابني جلد مائة وتغريب عام، وأن على امرأة هذا الرجم فقال النبي ﷺ: "والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب اللَّه، المائة شاة والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، واغد يا ⦗٤٩٩⦘ أنيس على امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها" (٤).حضرت عبید اللہ بن عبداللہ ، حضرت ابوہریرہ حضرت زید بن خالد اور حضرت شبل ان سب حضرات نے ارشاد فرمایا : کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوکر کہنے لگا : میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فلہار فرمائیں گے۔ اتنے میں اس کے مد مقابل نے بھی کہا ! اور وہ پہلے والے سے زیادہ سمجھدار تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں کچھ کہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہو، اس نے کہا بیشک میرا بیٹا اس کا خدمت گار تھا اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کرلیا پس میں نے اس کو سو بکریاں اور ایک خادم فدیہ دے کر اپنے بچے کو چھڑا لیا پھر میں نے علماء سے اس بارے میں پوچھا ؟ تو انہوں نے مجھے بتلایا کہ بیشک میرے بیٹے پر سو کوڑوں کی اور ایک سال کے لیے جلا وطنی کی سزا ہوگی اور اس عورت پر رجم کی سزا جاری ہوگی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور بالضرور تمہارے بیٹے پر سو کوڑوں اور ایک سال جلا وطنی کی سزا جاری ہوگی اور اے انیس ! اس عورت کے پاس جاؤ، پس اگر وہ اعتراف کرلے تو اس کو سنگسار کردو۔