حدیث نمبر: 30702
٣٠٧٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن سفيان عن زيد بن أسلم عن يزيد بن نعيم عن أبيه قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ ﷺ (١) فقال: يا رسول اللَّه (٢) إني قد زنيت فأقم فيَّ كتاب اللَّه، فأعرض عنه، ثم قال: إني قد زنيت فأقم في كتاب اللَّه، فأعرض عنه، حتى ذكر أربع مرات، قال: "اذهبوا (٣) فارجموه"، فلما (مسته) (٤) (مس) (٥) الحجارة اشتد، (فخرج) (٦) عبد اللَّه بن أنيس -أو ابن أنس- من باديته، فرماه بوظيف جمل، فصرعه، فرماه الناس حتى قتلوه، فذُكر (ذلك) (٧) للنبي ﷺ فراره (فقال) (٨): " (فهلا) (٩) ⦗٤٩٨⦘ تركتموه (١٠) يتوب فيتوب اللَّه عليه، يا [(هزال أو يا هزان) (١١) لو سترته بثوبك كان خيرا لك مما صنعت] (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نعیم فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں آپ نے ان سے اعراض کیا انہوں نے پھر کہا : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ان سے اعراض کیا یہاں تک انہوں نے چار مرتبہ ذکر کردیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو لیجاؤ اور اسے سنگسار کردو پس جب ان کو پتھروں کی تکلیف بہت زیادہ محسوس ہوئی تو وہ دوڑے اتنے میں حضرت عبداللہ بن انیس یا ابن انس اپنے جنگل سے نکلے اور انہوں نے اس کو اونٹ کی پنڈلی مار کر ان کو نیچے گرادیا سو لوگوں نے ان کو پتھر مارے یہاں تک کہ ان کو قتل کردیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کے بھاگنے کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا کہ وہ توبہ کرلیتا اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتے اے ھزال یایوں فرمایا : اے ھزان ! اگر تو اپنے کپڑے سے اس کو چھپا لیتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا اس کام سے جو تو نے کیا۔

حواشی
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) زيادة في [ب]: ﷺ.
(٣) في [هـ]: زيادة (به)، وفي [ز، ر]: (اذهب).
(٤) في [ط]: (مسه).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [جـ]: (يخرج).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [أ، ب، ط]: (قال).
(٩) في [جـ، ك]: (هلا)، وفي [ب]: (أفلا).
(١٠) في [هـ]: زيادة (فلعله).
(١١) في [جـ]: (يا هزال أو يا هزان)، وفي [ط]: (يا هذا أو يا هران)، وفي [أ]: (يا هرانًا أو يا هران)، وفي [أ]: (يا مزال، أو يا هزال).
(١٢) بياض في: [ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يزيد صدوق، أخرجه أحمد (٢١٨٩٢)، وأبو داود (٤٣٧٧)، والنسائي في الكبرى (٧٢٠٥)، والحاكم ٤/ ٣٦٣، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٩٣)، وابن قانع ٣/ ١٥٠، والبيهقي ٣/ ٣٣٠، وسبق ١٠/ ٧١ برقم [٣٠٦٨٢].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30702، ترقيم محمد عوامة 29379)