مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟ باب: زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
٣٠٧٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن سفيان عن زيد بن أسلم عن يزيد بن نعيم عن أبيه قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ ﷺ (١) فقال: يا رسول اللَّه (٢) إني قد زنيت فأقم فيَّ كتاب اللَّه، فأعرض عنه، ثم قال: إني قد زنيت فأقم في كتاب اللَّه، فأعرض عنه، حتى ذكر أربع مرات، قال: "اذهبوا (٣) فارجموه"، فلما (مسته) (٤) (مس) (٥) الحجارة اشتد، (فخرج) (٦) عبد اللَّه بن أنيس -أو ابن أنس- من باديته، فرماه بوظيف جمل، فصرعه، فرماه الناس حتى قتلوه، فذُكر (ذلك) (٧) للنبي ﷺ فراره (فقال) (٨): " (فهلا) (٩) ⦗٤٩٨⦘ تركتموه (١٠) يتوب فيتوب اللَّه عليه، يا [(هزال أو يا هزان) (١١) لو سترته بثوبك كان خيرا لك مما صنعت] (١٢) (١٣).حضرت نعیم فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں آپ نے ان سے اعراض کیا انہوں نے پھر کہا : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ان سے اعراض کیا یہاں تک انہوں نے چار مرتبہ ذکر کردیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو لیجاؤ اور اسے سنگسار کردو پس جب ان کو پتھروں کی تکلیف بہت زیادہ محسوس ہوئی تو وہ دوڑے اتنے میں حضرت عبداللہ بن انیس یا ابن انس اپنے جنگل سے نکلے اور انہوں نے اس کو اونٹ کی پنڈلی مار کر ان کو نیچے گرادیا سو لوگوں نے ان کو پتھر مارے یہاں تک کہ ان کو قتل کردیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کے بھاگنے کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا کہ وہ توبہ کرلیتا اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتے اے ھزال یایوں فرمایا : اے ھزان ! اگر تو اپنے کپڑے سے اس کو چھپا لیتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا اس کام سے جو تو نے کیا۔