مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟ باب: زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
٣٠٦٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن أبي عثمان بن نصر عن أبيه قال: كنت فيمن رجم ماعزًا، فلما وجد مس الحجارة قال: ردوني إلى رسول اللَّه ﷺ (فأنكرت ذلك) (١) فأتيت عاصم ⦗٤٩٦⦘ ابن عمر فقال: قال الحسن بن محمد بن الحنفية: لقد بلغني فأنكرته، فأتيت جابرًا فقلت: لقد ذكر (الأسلمي) (٢) شيئًا من قول ماعز بن مالك: ردوني، فأنكرته فقال: أنا فيمن رجمه فقال: إنه وجد مس الحجارة قال: ردوني إلى رسول اللَّه ﷺ فإن قومي آذوني وقالوا: (ائت) (٣) (رسول اللَّه ﷺ) (٤) فإنه غير قاتلك، فما (أقلعنا) (٥) عنه حتى قتلناه، فلما ذكر شأنه للنبي ﷺ (فقال) (٦): "ألا تركتموه حتى أنظر في شأنه" (٧).حضرت ابو عثمان بن نصر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے حضرت ماعز کو سنگسار کیا تھا پس جب انہوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہنے لگے : تم لوگ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس لوٹا دو پس میں نے اس بات سے انکار کردیا راوی کہتے ہیں میں حضرت عاصم بن عمر کے پاس آیا اور کہا : حضرت حسن بن محمد ابن حنفیہ فرماتے ہیں : تحقیق مجھے خبر پہنچی ہے کہ ! پس میں نے اس کا انکار کردیا میں پھر حضرت جابر کے پاس آیا اور میں نے کہا : تحقیق حضرت اسلمی نے ماعز بن مالک کے قول میں سے کچھ ذکر کیا ہے کہ ؟ تم لوگ مجھے لوٹا دو میں اس کا انکار کرتا ہوں ! سو انہوں نے جواب دیا : میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کو سنگسار کیا تھا اور آپ نے فرمایا : بیشک انہوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی اور کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹا دو بیشک میری قوم نے مجھے تکلیف میں ڈالا، اور لوگوں نے کہا : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں قتل نہیں کریں گے پس ہم لوگوں نے انہیں نہیں چھوڑا یہاں تک کہ ہم نے ان کو مار دیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کی حالت کا ذکر کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑکیوں نہیں دیا یہاں تک کہ میں اس حالت میں غور کرلیتا ؟