حدیث نمبر: 30690
٣٠٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عبد الملك بن مغيرة الطائفي عن ابن شداد عن أبي ذر قال: كنا مع النبي ﷺ في سفر، فجاء رجل فأقر أنه قد زنا فرده النبي ﷺ (١) ثلاثًا، فلما كانت الرابعة ونزل، أمر به النبي ﷺ فرجم، (وشق) (٢) ذلك عليه، حتى (عرفته) (٣) في وجهه، فلما سري عنه الغضب قال: "يا أبا ذر إن صاحبكم قد غفر له" قال: وكان يقال: إن توبته أن يقام عليه الحد (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ کسی سفر میں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو تین بار واپس لوٹا دیا جب وہ چوتھی بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا سو اسے سنگسار کردیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ بات بہت ہی ناگوار گزری یہاں تک کہ اس کا اثر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ میں محسوس کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ ختم ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو ذر ! تمہارے ساتھی کی مغفرت کردی گئی، راوی نے فرمایا : یوں کہا جاتا تھا، بیشک اس کی توبہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کردی جائے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: ﵇.
(٢) في [ك]: (لشق).
(٣) في [ط، هـ]: (عرفت).
(٤) مجهول، ابن شداد هو نسعة مجهول، انظر: الإكمال ٧/ ٢٥٩، وتوضيح المشتبه ٩/ ٢٣٥، الحديث أخرجه أحمد (٢١٥٥٤)، والطحاوي ٣/ ١٤٢، والبزار (٤٠٣٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30690
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30690، ترقيم محمد عوامة 29369)