مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟ باب: زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
٣٠٦٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال: جاء ماعز بن مالك فاعترف بالزنا ثلاث مرات، فسأل عنه، ثم أمر به فرجم، فرميناه بالخزف والجندل (والعظام) (١)، وما حفرنا له، ولا أوثقناه فسبقنا إلى الحرة واتبعناه فقام إلينا، فرميناه حتى سكت، فما استغفر له النبي ﷺ ولا سبه (٢).حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں ماعز بن مالک آئے اور انہوں نے تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق سوال کیا ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے انہیں سنگسار کردیا گیا، سو ہم نے انہیں ٹھیکری، چھوٹے چھوٹے پتھر اور ہڈیاں ماریں اور نہ ہم نے ان کے لیے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہم نے ان کو باندھا پس وہ ہم سے آگے حرہ مقام کی طرف دورڑے اور ہم نے ان کاپیچھا کیا سوو ہ ہماری طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے پھر ہم نے انہیں پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ساکت ہوگئے اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے استغفار کیا اور نہ ہی ان کو برا بھلا کہا۔