حدیث نمبر: 30689
٣٠٦٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال: جاء ماعز بن مالك فاعترف بالزنا ثلاث مرات، فسأل عنه، ثم أمر به فرجم، فرميناه بالخزف والجندل (والعظام) (١)، وما حفرنا له، ولا أوثقناه فسبقنا إلى الحرة واتبعناه فقام إلينا، فرميناه حتى سكت، فما استغفر له النبي ﷺ ولا سبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں ماعز بن مالک آئے اور انہوں نے تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق سوال کیا ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے انہیں سنگسار کردیا گیا، سو ہم نے انہیں ٹھیکری، چھوٹے چھوٹے پتھر اور ہڈیاں ماریں اور نہ ہم نے ان کے لیے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہم نے ان کو باندھا پس وہ ہم سے آگے حرہ مقام کی طرف دورڑے اور ہم نے ان کاپیچھا کیا سوو ہ ہماری طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے پھر ہم نے انہیں پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ساکت ہوگئے اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے استغفار کیا اور نہ ہی ان کو برا بھلا کہا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (الغلام).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30689
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٩٤)، وأحمد (١١٥٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30689، ترقيم محمد عوامة 29368)