مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟ باب: زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
٣٠٦٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا (بشير) (١) قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه أن ماعز بن مالك الأسلمي أتى رسول اللَّه ﷺ فقال: إني قد ظلمت نفسي وزنيت، و (إني) (٢) أريد أن تطهرني، فرده فلما كان (الغد) (٣) أتاه (أيضًا) (٤) فقال: يا رسول اللَّه إني قد زنيت فرده الثانية فأرسل رسول اللَّه ﷺ إلى قومه فقال: "أتعلمون بعقله بأسا تنكرون منه شيئًا؟ فقالوا: لا نعلمه إلا وفي العقل من صالحينا فيما نرى قال: فأتاه الثالثة فأرسل إليهم (أيضًا) (٥) فسأل عنه فأخبروه أنه لا بأس به ولا بعقله، فلما كان الرابعة حفر له حفرة ثم أمر به فرجم (٦).حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی : بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور میں نے زنا کیا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پاک کردیں، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو واپس کردیا جب اگلا دن آیا تو وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے اور عرض کی : یا سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دوسری مرتبہ بھی واپس لوٹا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف قاصد بھیجا اور فرمایا : کیا تم اس کی عقل میں کوئی حرج سمجھتے ہو ؟ کیا تم اس میں کوئی غلط چیز دیکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے مگر یہ کہ اس کی عقل ہمارے نیک لوگوں کی طرح ہے جیسا کہ ہمیں دکھائی دیا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ تیسری بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف پھر قاصد بھیجا اور اس کے بارے میں سوال کیا ؟ ان لوگوں نے بتلایا کہ اس میں اور اس کی عقل میں کوئی حرج والی بات نہیں، پس جب وہ چوتھی مرتبہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے انہیں سنگسار کردیا گیا۔