مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟ باب: زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
٣٠٦٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ (١) فقال: إني قد زنيت فأعرض عنه، حتى أتاه أربع مرار، فأمر به أن يرجم، فلما أصابته الحجارة أدبر يشتد، فلقيه رجل بيده لحي جمل، (فضربه) (٢) فصرعه، فذكر ⦗٤٩١⦘ للنبي ﷺ (٣) فراره حين مسته الحجارة، فقال: "هلا تركتموه" (٤).حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے : بیشک میں نے زنا کیا ہے ! سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا یہاں تک کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیاتو ان کو سنگسار کیا گیا جب انہں پ پتھروں کی تکلیف پہنچی تو وہ تکلیف سے بھاگنے لگے اتنے میں اسے ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں اونٹ کا جبڑا تھا پس اس نے اسے مارا اور اسے نیچے گرا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کے بھاگنے کا معاملہ ذکر کیا گیا جب انہیں پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ ’