٣٠٦٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (فضيل) (١) عن (٢) حصين عن بكر قال: تزوجت امرأة عبدها فقيل لها، فقالت: أليس (اللَّه) (٣) يقول: ﴿وَمَا مَلَكَتْ (أَيْمَانُكُمْ) (٤)﴾ [النساء: ٣٦]، فهذا (ملك) (٥) يميني، وتزوجت امرأة من غير بينة ولا ولي، فقيل لها، فقالت: أنا ثيب وقد ملكت أمري، (فرفعتا) (٦) إلى عمر، فجمع ⦗٤٨٨⦘ الناس فسألهم، فقالوا: قد (خاصمتاك) (٧) بكتاب اللَّه ﷻ، وقال علي: قد (خاصمتاك) (٨) بكتاب اللَّه، فجلد كل واحد منهما مائة جلدة، ثم كتب إلى الأمصار أيما امرأة تزوجت عبدها، أو تزوجت بغير ولي فهي بمنزلة الزانية (٩).حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت بکر نے ارشاد فرمایا : ایک عورت نے اپنے غلام سے شادی کی پس اس سے اس بارے میں پوچھا گیا ؟ تو وہ کہنے لگی : کیا اللہ رب العزت نے یوں نہیں فرمایا : اور وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہیں، تو میرا داہنا ہاتھ اس کا مالک ہے، اور ایک دوسری عورت نے بغیر گواہی اور ولی کی اجازت کے بغیر شادی کی پس اس سے اس بارے میں پوچھا گیا ؟ تو وہ کہنے لگی : میں ثیبہ عورت ہوں اور مجھے میرے معاملہ کا اختیار ہے سو ان دونوں کا معاملہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے ان سے ان دونوں کے بارے میں پوچھا ؟ لوگوں نے کہا ! تحقیق ان دونوں نے اللہ جل جلالہ کی کتاب سے جھگڑا کیا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا : تحقیق ان دونوں نے اللہ جل جلالہ کی کتاب سے جھگڑا کیا ہے۔ سو آپ نے ان دنوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے پھر آپ نے شہروں کے امراؤں کو خط لکھ دیا : جو کوئی عورت اپنے غلام سے شادی کرلے یا وہ ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرلے تو زانیہ کے درجہ میں ہوگی۔