مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
ما جاء في السكران: متى يضرب: إذا (صحا)، أو في حال سكره؟ باب: ان روایات کا بیان جو نشہ میں مدہوش کے بارے میں منقول ہیں کہ اسے کب مارا جائے گا: جب وہ ٹھیک ہوجائے یا اس کے نشہ میں ہونے کی حالت میں؟
حدیث نمبر: 30533
٣٠٥٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي الحارث التيمي عن أبي ماجد الحنفي قال: كنت عند عبد اللَّه بن مسعود قاعدًا، فجاءه رجل من المسلمين بابن أخ له، فقال له: (يا) (١) أبا عبد الرحمن، إن ابن أخي وجدته (سكران) (٢)، فقال عبد اللَّه: (ترتروه، ومزمزوه، واستنكهوه) (٣) (فترتر) (٤) و (مزمز) (٥) و (استنكه) (٦) فوجد (سكران) (٧) (فدفع) (٨) إلى السجن، فلما كان الغد جئت وجيء به (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ماجد حنفی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لایا اور آپ سے کہنے لگا : اے ابو عبدالرحمن ! میرے بھائی کا بیٹا ہے میں نے اسے نشہ کی حالت میں پایا ہے اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : تم اس کو اچھی طرح ہلاؤ، اس کو دھکیلو اور اس کے منہ کی بوسو نگھو پس اسے سنگھایا گیا تو آپ نے اسے نشہ کی حالت میں پایا، اسے جیل بھیج دیا گیا پس جب اگلا دن آیا تو میں آیا اور اسے بھی لایا گیا۔
حواشی
(١) في [ط]: (أيا).
(٢) في [أ، ح، ط، ك، هـ]: (سكرانًا).
(٣) تكرر ما بين القوسين في: [ح]، والمراد: تحريكه وتكليمه.
(٤) في [أ، ط، هـ]: (فترتروه).
(٥) سقط من: [ط، هـ].
(٦) في [أ، هـ]: (استنكهوه).
(٧) في [أ، ح، ط، ك، هـ]: (سكرانًا).
(٨) في [أ، ط، هـ]: (فرفع).
(٩) مجهول؛ لجهالة أبي ماجد الحنفي.