مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
(في) الرجل يسرق الطير أو البازي ما عليه؟ باب: اس آدمی کے بیان میں جو پرندہ یا شکرا چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی؟
حدیث نمبر: 30513
٣٠٥١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) عبد الرحمن بن مهدي (عن) (٢) زهير ابن محمد عن يزيد بن خصيفة قال: (أتي) (٣) عمر بن عبد العزيز برجل (قد) (٤) سرق طيرًا، فاستفتى في ذلك السائب بن يزيد، فقال: ما رأيت أحدا قطع في الطير، و (ما عليه) (٥) في ذلك قطع، فتركه عمر بن عبد العزيز (ولم) (٦) يقطعه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید ابن خصیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے پرندہ چوری کیا تھا تو آپ نے اس بارے میں حضرت سائب بن یزید سے سے فتویٰ پوچھا انہوں نے فرمایا : میں نے کسی کو نہیں دیکھا جس نے پرندے کی چوری میں ہاتھ کاٹا ہو۔ اور اس بارے میں چور پر کاٹنے کی سزا جار ی نہیں ہوگی حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (أبي)، وفي [ط]: (ابن).
(٢) في [ط]: (في).
(٣) في [ط]: (إلى).
(٤) سقط من: [أ، هـ].
(٥) مطموس في: [ط].
(٦) في [جـ، ك]: (فلم).