مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في (الرجل) يؤتى به (فيقال): أسرقت؟ قتل: لا باب: اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں
حدیث نمبر: 30481
٣٠٤٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن سليمان الناجي عن أبي المتوكل أن أبا هريرة أتي بسارق وهو يومئذ (أمير) (١) فقال: أسرقت، أسرقت؟ قل: لا (٢)، لا، مرتين أو ثلاثًا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو المتوکل فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ کے پاس ایک چور لایا گیا درآنحالیکہ ان دنوں آپ امیر تھے۔ آپ نے فرمایا : کا تو نے چوری کی ہے ؟ کیا تو نے چوری کی ہے ؟ یوں کہہ دو ، نہیں، نہیں، دو یا تین مرتبہ فرمایا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (أميرًا).
(٢) في [هـ]: زيادة (قل).