حدیث نمبر: 30447
٣٠٤٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) ابن أبي عروبة عن إياس بن معاوية عن نافع، قال: (جاءت) (٢) جارية إلى عمر فقالت: ⦗٤٣٦⦘ يا أمير المؤمنين إن المغيرة يطأني، وإن امرأته تدعوني زانية، فإن كنت لها (فانهه) (٣) عن غشياني، وإن كنت له فانه امرأته عن قذفي، فأرسل إلى المغيرة فقال: تطأ هذه الجارية؟ قال: نعم، قال: من أين؟ قال: وهبتها لي امرأتي، قال: واللَّه، لئن (لم) (٤) تكن وهبتها لك (لا ترجع) (٥) إلى أهلك (إلا) (٦) مرجوما، ثم (دعا رجلين رقيقين) (٧) (فقال) (٨): انطلقا إلى امرأة المغيرة فأعلماها: لئن لم تكوني وهبتها (له) (٩) لنرجمنه، قال: فأتياها فأخبراها فقالت: (يا لهفاه) (١٠) أتريد أن يرجم بعلي، لاها اللَّه إذن لقد وهبتها له، قال: (فخلى) (١١) عنه (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک باندی حضرت عمر کے پاس آئی اور کہنے لگی : اے میرا لمومنین ! بیشک حضرت مغیرہ مجھ سے وطی کرتے ہیں اور ان کی بیوی مجھے زانیہ پکارتی ہے پس اگر میں ان کی بیوی کی ملکیت ہوں تو آپ ان کو مجھ سے وطی کرنے سے روک دیں اور اگر میں مغیرہ کی ملکیت ہوں تو آپ ان کی بیوی کو مجھ پر تہمت لگانے سے باز کریں۔ اس پر آپ نے قاصد بھیج کر حضرت مغیرہ کو بلایا اور پوچھا : کیا تم اس باندی سے وطی کرتے ہو ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں، آپ نے پوچھا : تمہیں کہاں سے ملی ؟ انہوں نے فرمایا : یہ میری بیوی نے مجھے ہبہ کی ہے آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اس نے یہ باندی تمہیں ھبہ نہ کی ہو تو تم آج گھر نیں و لوٹو گے مگر کوڑے کھا کر۔ پھر آپ نے فلاں اور فلاں کو حکم دیا اور ارشاد رفرمایا : تم دونوں آدمی مغیرہ کی بیوی کے پاس جاؤ، اور اسے اس بارے میں بتلاؤ، اگر تو نے یہ باندی اس کو ھبہ نہیں کی تو ہم ضرور اسے سنگسار کردیں گے۔ پس وہ دنوں آدمی حضرت مغیرہ کی بیوی کے پاس آئے اور اسے اس بارے میں خبر دی۔ اس نے کہا : اے افسوس ! کیا وہ میرے شوہر کو سنگسار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ! تب اللہ اس سے جھگڑے، تحقیق اس کو میں نے وہ باندی ھبہ کی تو آپ نے انہیں چھوڑ دیا۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (أخبرنا).
(٢) في [ب]: (جاء).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (فأنهاه)، وفي [ك]: (فانها).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [هـ]: (لترجع).
(٦) سقط من: [هـ]، وفي [ك]: (إلى).
(٧) سقط من النسخ، وانظر: الاستذكار ٧/ ٥٢٨، وأخبار القضاة ١/ ٣٢١.
(٨) في [أ، ط، هـ]: (وقال).
(٩) سقط من: [ط، هـ].
(١٠) في [أ، هـ]: (بالهفاه).
(١١) في [جـ]: (فحلى).
(١٢) منقطع؛ نافع لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30447
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30447، ترقيم محمد عوامة 29137)