مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الجارية (تكون) بين الرجلين (فيقع) عليها أحدهما باب: اس باندی کے بیان میں جو دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پس ان میں سے ایک اس سے وطی کرے
حدیث نمبر: 30422
٣٠٤٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن (عمير) (١) بن نمير قال: سئل ابن عمر عن جارية كانت بين رجلين، فوقع (عليها) (٢) أحدهما، قال: ليس عليها حد، هو خائن يُقوّمُ عليه قيمته ويأخذها (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن نمیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک باندی کے متعلق سوال کیا گیا جو دو آدمیوں کے درمیان مشترک تھی پس ان میں سے ایک نے اس سے وطی کرلی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس پر حد جاری نہیں ہوگی وہ خائن شمار ہوگا اس پر قیمت لازم ہوجائے گی اور وہ اس باندی کو لے لے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (عمر).
(٢) في [جـ]: (بياض).
(٣) مجهول؛ لجهالة عمير بن نمير.