مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في درء الحدود بالشبهات باب: شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 30404
٣٠٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن يزيد بن (زياد البصري) (١) عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: ادرأوا الحدود عن (المسلمين ما) (٢) استطعتم، فإذا وجدتم للمسلم مخرجًا فخلوا سبيله، فإن الإمام (إن يخطئ) (٣) في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : سزاؤں کو مسلمانوں سے اپنی طاقت کے بقدر دور کرو پس جب تم مسلمانوں کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ پاؤ تو ان کو چھوڑ دو اس لیے کہ حاکم کا معافی میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔
حواشی
(١) بياض في: [م].
(٢) سقط من: [م].
(٣) في [أ، ط، هـ]: (إذا أخطأ).
(٤) في [هـ] زيادة: (تم بحمد اللَّه ﷾ الجزء التاسع، ويليه إن شاء اللَّه الجزء العاشر وأوله باب: [من قال لا حد على من أتى بهيمة] من كتاب الحدود.