حدیث نمبر: 30403
٣٠٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن سبرة قال: بينما نحن بمنى مع عمر إذا امرأة ضخمة على ⦗٤٢٦⦘ حمارة تبكي، قد كاد الناس أن يقتلوها من الزحام، يقولون: زنيت، فلما انتهت إلى عمر قال: ما يبكيك؟ إن (المرأة) (١) ربما استكرهت، فقالت: كنت امرأة ثقيلة الرأس، وكان اللَّه يرزقني من صلاة الليل، فصليت ليلة ثم نمت، فواللَّه ما أيقظني إلا الرجل قد ركبني، (فنظرت) (٢) إليه مقفيًا، ما أدري (من) (٣) هو من خلق اللَّه، فقال عمر: لو قتلت هذه خشيت على الأخشبين النار، ثم كتب إلى الأمصار ألا تقتل نفس دونه (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نزال بن سبرہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم منی میں حضرت عمر کے ساتھ تھے ایک بھاری بھر کم عورت گدھے پر رو رہی تھی۔ قریب تھا کہ لوگ رش سے اس کو مار دیتے۔ وہ کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ہے۔ پس جب وہ حضرت عمر کے پاس پہنچی آپ نے پوچھا : کس بات نے تجھے رلایا ؟ بیشک کبھی کبھار عورت کو بدکاری پر مجبور بھی کردیا جاتا ہے ! اس عورت نے کہا : میں بہت زیادہ سونے والی عورت ہوں اور اللہ رب العزت مجھے رات کی نماز کی توفیق عطا فرماتے تھے پس میں نے ایک رات نماز پڑھی پھر میں سو گئی اللہ کی قسم ! مجھے بیدار نہیں کیا مگر اس آدمی نے تحقیق جو مجھ پر سوار ہوچکا تھا۔ میں نے اس کو دور کرتے ہوئے غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا ؟ اس پر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اگر میں اس کو قتل کردوں تو مجھے جہنم کی سختی کا خوف ہے پھر آپ نے شہروں میں خط لکھ دیا : کہ کسی جان کو بغیر وجہ کے قتل نہ کیا جائے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (امرأة).
(٢) في [هـ]: (فرأيت).
(٣) في [جـ]: (ما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30403
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30403، ترقيم محمد عوامة 29093)