حدیث نمبر: 30402
٣٠٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه قال: قال أبو موسى: أُتيت وأنا باليمن امرأة حبلى فسألتها فقالت: ما تسأل عن امرأة ⦗٤٢٥⦘ حبلى ثيب من غير بعل، أما واللَّه ما (خاللت) (١) خليلًا، ولا (خادنت) (٢) خدنا منذ (أسلمت) (٣)، ولكن بينا أنا نائمة بفناء بيتي -واللَّه- ما أيقظني إلا رجل (رفصني) (٤) وألقى في بطني مثل الشهاب، ثم نظرت إليه (مقفيًا) (٥) ما أدري من هو من خلق اللَّه، فكتبت فيها إلى عمر، فكتب عمر: (وافني) (٦) بها وبناس من قومها، قال: فوافيناه (بالموسم) (٧) فقال شبه الغضبان: لعلك قد سبقتني بشيء من أمر المرأة؟ قال: قلت: لا، وهي معي، وناس من قومها. فسألها فأخبرته كما أخبرتني، ثم سأل قومها فأثنوا خيرًا، قال: فقال عمر: شابة تهامية (نومة) (٨)، قد كان يفعل (فمارها) (٩) وكساها، وأوصى (بها قومها) (١٠) خيرًا (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ارشاد فرمایا : میں یمن میں تھا کہ میرے پاس ایک حاملہ عورت لائی گئی میں نے اس سے اس بارے میں سوال کیا ؟ تو اس نے کہا : کیا آپ ایسی حاملہ عورت کے متعلق پوچھ رہے ہیں جو خاوند کے علاوہ سے ثیبہ کی گئی ہے ؟ اللہ کی قسم ! جب سے میں اسلام لائی ہوں نہ میں نے کسی کو دوست بنایا اور نہ ہی کسی کو ہمنشین بنایا ہے لیکن ایک دن میں اپنے گھر کے صحن میں سوئی ہوئی تھی۔ اللہ کی قسم ! مجھے بیدار نہیں کیا گیا مگر ایک آدمی نے اس نے مجھے ہلکے سے اٹھایا اور اس نے میرے پیٹ میں ستارے جیسی چیز ڈال دی پھر میں نے اسے دور کرتے ہوئے اس کی طرف غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا ؟ آپ فرماتے ہیں : میں نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا : تو حضرت عمر نے جواب لکھا : اس عورت کو اور اس کی قوم کے چند لوگوں کو میرے پاس لے کر آؤ آپ فرماتے ہیں : ہم لوگ موسم حج میں ان کے پاس آئے حضرت عمر نے غصہ کی سی حالت میں فرمایا : شاید کہ تم اس عورت کے معاملہ میں مجھ پر کچھ سبقت لے گئے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں، وہ عورت اور اس کی قوم کے چند لوگ میرے ساتھ ہیں۔ پھر آپ نے اس عورت سے سوال کیا، تو اس نے آپ کو بھی ویسے ہی بات بتلائی جیسے اس نے مجھے بتلائی تھی۔ پھر آپ نے اس کی قوم سے اس کے متعلق پوچھا : تو ان لوگوں نے اس کی تعریف بیان کی اس پر حضرت عمر نے فرمایا : تِھَامیۃ کی جوان عورت بہت سونے والی ہے کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے پس آپ نے اسے خوراک دی اور اسے کپڑے پہنائے اور اس کی قوم کو اس کے ساتھ اچھے برتاؤ کی وصیت کی۔

حواشی
(١) في [ط]: (خالت).
(٢) في [جـ، ك]: (خادثت).
(٣) بياض في: [م].
(٤) الرفص: الضرب بالرجل، كما في شرح النووي لمسلم (١٨/ ٥٤)، وعمدة القاري (٨/ ١٧٠)، ومشارق الأنوار (١/ ٢٩٤)، وفي [ط، هـ]: (رفعني)، وفي المحلى (٨/ ٢٥١): (ركبني)، وفي أخبار القضاة (١٥/ ١٠١): (رقصني).
(٥) في [ط، هـ]: (مقفى).
(٦) في [ط، هـ]: (ائتني).
(٧) في [جـ، ك، م]: (بالموسى).
(٨) أي: ثقيلة النوم، وفي [أ، هـ]: (قد نومت).
(٩) أي: أعطاها الميسرة، وفي [هـ]: (قمارهما).
(١٠) في [جـ، ك، م]: (قومها بها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30402
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كليب صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30402، ترقيم محمد عوامة 29092)