مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في درء الحدود بالشبهات باب: شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 30397
٣٠٣٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب أن امرأة زنت فقال عمر: أراها كانت تصلي من الليل فخشعت فركعت فسجدت، فأتاها غاو من الغواة (فتجثمها) (١) فأرسل عمر إليها فقالت كما قال عمر، فخلى سبيلها (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے زنا کیا اس پر حضرت عمر نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ وہ رات کو نماز پڑھ رہی تھی پس وہ ڈر گئی سو اس نے رکوع کیا پھر وہ سجدہ میں چلی گئی۔ اتنے میں گمراہوں میں سے ایک گمراہ شخص آیا ہوگا اور وہ اس کے اوپر چڑھ گیا ہوگا۔ حضرت عمر نے اس عورت کی طرف قاصد بھیجا تو اس عورت نے وہی بات کہی جو حضرت عمر نے بیان کی تھی۔ آپ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔
حواشی
(١) في [ك، م]: (فجثمها)، وفي [ط، هـ]: (فتحتمها).