مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في رجل طلق امرأته فوجد يغشاها وشهد عليه (وأنكر) أن يكون طلقها باب: ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
٣٠٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن جرير بن حازم عن عيسى بن عاصم قال: خرج قوم في سفر، فمروا برجل فنزلوا به، فطلق امرأته ثلاثًا، فمضى القوم في سفرهم، ثم عادوا فوجدوه معها، فقدموه إلى شريح فقالوا: إن هذا طلق امرأته ثلاثًا ووجدناه معها، فأنكر، [فقالت: شهدون أنه زان، فأعادوا عليه (القول كما قالوا، فقالت: شهدون أنه زان؟ فأعادوها عليه) (١) ففرق بينهما، ولم يحدهما، وأجاز (شهادتهما) (٢)] (٣).حضرت عیسیٰ بن عاصم فرماتے ہیں کہ چند لوگ سفر میں نکلے ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہواتو انہوں نے اس کے پاس قیام کیا اس دوران اس آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں پھر وہ واپس لوٹے تو انہوں نے اس کو اس عورت کے ساتھ پایا سو انہوں نے اس کو حضرت شریح کے سامنے پیش کیا اور کہنے لگے : بیشک اس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور ہم نے اسے اس عورت کے ساتھ پایا ہے اور وہ آدمی انکار کررہا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ یہ شخص زانی ہے ؟ پس انہوں نے اپنے قول کو دھرایا جیسا انہوں نے کہا تھا پھر آپ نے پوچھا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ یہ شخص زانی ہے ؟ انہوں نے پھر اپنی بات دھرائی سو آپ نے ان کے درمیان تفریق کردی اور ان دونوں پر حد نہیں لگائی اور ان کی گواہی کو جائز قرار دیا۔