مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
النبيذ من رأى فيه حدا باب: انگور یا کھجور کی نچوڑ ی ہوئی شراب جو اس میں حد لگانے کی رائے رکھے
٣٠٢٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مسهر عن الشيباني عن حسان بن مخارق قال: بلغني أن (رجلًا ساير عمر بن الخطاب) (١) في سفر وكان صائمًا، فلما أفطر (أهوى) (٢) إلى قربة لعمر معلقة فيها نبيذ قد خضخضها البعير، فشرب منها فسكر، فضربه عمر الحد، فقال له: إنما شربت (٣) من قربتك، فقال له عمر: إنما جلدناك لسكرك (٤).حضرت حسان بن مخارق فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب کے ہمر اہ سفر میں گیا درآنحالیکہ وہ روزہ دار تھا جب اس نے روزہ افطار کرلیا تو اس نے اپنا ہاتھ حضرت عمر کے چمڑے کے مشکیزے کی طرف بڑھایا جو لٹکا ہوا تھا اور اس میں نبیذ موجود تھی جس کو اونٹ نے خوب ہلادیا تھا۔ پس اس شخص اسے پی لیا اور نشہ میں مدہوش ہوگیا اس پر حضرت عمر نے اس پر حد لگائی اس نے آپ سے کہا : بیشک میں نے تو تمہارے مشکیزے سے پی تھی ؟ آپ نے اس سے فرمایا : بیشک ہم نے تمہارے نشہ میں مدہوش ہونے کی وجہ سے تمہیں کوڑے مارے ہیں۔