حدیث نمبر: 30212
٣٠٢١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن القاسم عن أبيه قال: أتي عبد اللَّه برجل وجد مع امرأة في ثوب، قال: فضربهما أربعين أربعين قال: فخرجوا إلى عمر (فاستعدوا) (١) عليه، فلقي عمر عبد اللَّه، فقال: قوم استعدوا عليك في كذا وكذا، (قال) (٢): فأخبره بالقصة فقال لعبد اللَّه: كذلك (ترى) (٣)؟ قال: نعم، ⦗٣٨٨⦘ (قالوا) (٤): جئنا نستعديه فإذا هو يستفتيه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں پایا گیا تھا۔ تو آپ نے ان دونوں کو چالیس چالیس کوڑے لگائے۔ راوی کہتے ہیں ! پھر وہ لوگ حضرت عمر کے پاس گئے حضرت عبداللہ کے خلاف مدد مانگنے کے لیے۔ حضرت عمر حضرت عبداللہ بن مسعود سے ملے اور فرمایا : کچھ لوگ تمہارے خلاف اس معاملہ میں مدد مانگ رہے ہیں تو آپ نے ان کو واقعہ کی اطلاع دی ۔ تو آپ یہ سن کر حضرت عبداللہ سے فرمانے لگے ! اس میں تمہاری ایسی رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! وہ لوگ کہنے لگے : ہم تو ان سے مدد مانگنے آئے تھے وہ تو خود ان سے فتویٰ پوچھ رہے ہیں۔

حواشی
(١) في [ك]: (فاستعدا).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (فا)، وفي [ط]: (نرى).
(٤) في [ط، هـ]: (قال).
(٥) مختلف في اتصاله، لاختلافهم في سماع عبد الرحمن بن عبد اللَّه بن مسعود من أبيه، فأثبته الثوري وشريك وابن المديني، ونفاه يحيى القطان والعجلي، واختلف النقل عن ابن معين.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30212
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30212، ترقيم محمد عوامة 28919)