حدیث نمبر: 30109
٣٠١٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثني جرير بن حازم قال: قرأت (كتاب) (١) عمر بن عبد العزيز إلى عدي بن أرطأة: أما بعد، كتبت تسأل عن العبد (يقذف) (٢) الحر (كم) (٣) يجلد؟ وذكرت أنه بلغك أني كنت أجلد إذ أنا بالمدينة أربعين جلدة، ثم جلدته في آخر عملي ثمانين جلدة، وأن جلدي الأول كان رأيًا رأيته، وأن جلدي (الأخير) (٤) وافق كتاب اللَّه، فاجلده ثمانين جلدة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جریر بن حازم فرماتے ہیں کہ میں نے عدی بن ارطاہ کو لکھے گئے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے خط کو پڑھا، حمد و صلوۃ کے بعد آپ نے اس غلام کے متعلق پوچھا جس نے آزاد پر بری تہمت لگائی ہو کہ اس کو کتنے کوڑے لگائے جائیں گے، اور آپ نے ذکر کیا ہے کہ آپ کو خبر پہنچی ہے کہ میں جب مدینہ میں تھا تو میں نے غلام کو چالیس کوڑے لگائے تھے پھر میں نے اس غلام کو اپنے آخری عمل میں اسی کوڑے لگائے تھے اور بیشک میں نے جو پہلے کوڑے مارے تھے وہ میری اپنی رائے تھی جو میں نے قائم کی تھی اور بیشک میں نے آخری عمل میں جو کوڑے مارے تھے وہ کتاب اللہ سے موافقت تھی پس تم بھی اسے اسی کوڑے مارو۔

حواشی
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ط]: (يقذف)، وفي [جـ، م]: (يقذوا).
(٣) في [ط، هـ]: (لم).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (الآخر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30109
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30109، ترقيم محمد عوامة 28822)