مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
الرجل يقر بالسرقة: كم يردد مرة؟ باب: اس آدمی کے بارے میں جو چوری کا اقرار کرے کتنی مرتبہ اس کی تردید کی جائے گی؟
حدیث نمبر: 30060
٣٠٠٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن غالب أبي الهذيل قال: سمعت سبيعًا أبا سالم يقول: شهدت الحسن بن علي وأتي برجل أقر بسرقة، فقال له الحسن: فلعلك اختلسته لكي يقول: لا، حتى أقر عنده مرتين أو ثلاثًا فأمر به فقطع (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سبیع ابو سالم فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا اس حال میں ایک آدمی کو پکڑ کر لایا گیا جس نے چوری کا اقرار کیا تھا اس پر حضرت حسن نے فرمایا شاید تو نے چھین لیا ہوتا کہ وہ کہہ دے نہیں۔ یہاں تک کہ اس شخص نے آپ کے پاس دو یا تین مرتبہ اقرار کرلیا پس آپ کے حکم سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا گاا۔
حواشی
(١) مجهول؛ لجهالة سبيع أبي سالم.