مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
ما قالوا: إذا أخذ على سرقة (يقطع) أو لا؟ باب: جن لوگوں نے یوں کہا: کہ جب غلام کو چوری کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا ہو؟ کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 30053
٣٠٠٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن أبي بشر عن يوسف (بن ماهك) (٢) أن عبدًا لبعض أهل مكة سرق رداء لصفوان بن أمية، فأتي به النبي ﷺ فأمر بقطعه، فقال: يا رسول اللَّه! تقطعه من أجل ثوبي؟ قال: "فهلا (قبل أن تأتيني) (٣) (به) " (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن ماھک فرماتے ہیں کہ اہل مکہ میں سے کسی کے غلام نے حضرت صفوان بن امیہ کی چادر چوری کرلی پس اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اس پر حضرت صفوان کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کپڑے کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس یہ بات تم نے اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ سوچی ؟
حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (هشام).
(٢) بياض في: [جـ].
(٣) بياض في: [جـ].
(٤) سقط من: [أ، جـ، ط، هـ].