مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل ينقص صلاته (وما ذكر فيه) وكيف يصنع (فيها) باب: آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 3001
٣٠٠١ - حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش يقول: رأيت أنس بن مالك بمكة قائما يصلي عند الكعبة فما عرضت له، قال: فكان قائما يصلي معتدلا في صلاته فإذا رفع رأسه انتصب قائما حتى تستوي غضون بطنه (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو مکہ میں خانہ کعبہ کے پاس نما ز پڑھتے دیکھا، میں ان کے سامنے نہ آیا۔ وہ انتہائی اطمینان کے ساتھ نماز ادا فرما رہے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بالکل سیدھا کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ ان کے پیٹ کی رگیں بھی سیدھی ہوجاتیں۔