حدیث نمبر: 29941
٢٩٩٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن سعيد بن مسروق عن عكرمة قال: (سرقت) (١) عيبة لعمار بالمزدلفة فوضع في أثرها (جفنة) (٢) ودعا القافة فقالوا: حبشي، (واتبعوا) (٣) أثره حتى انتهى إلى (حائط) (٤) وهو يقلبها، فأخذها وتركه، فقيل له فقال: استر عليه، لعل اللَّه أن يستر علي (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار کی مزدلفہ میں زنبیل چوری ہوگئی تو آپ نے اس کے پیچھے ایک بڑا پیالہ رکھ دیا اور قیافہ شناس کو بلایا : پس وہ لوگ کہنے لگے : کہ کوئی حبشی ہے انہوں نے اس کے نشان کا پیچھا کیا : یہاں تک کہ وہ ایک باغ تک پہنچے اور وہ حبشی اسے الٹ پلٹ کر رہا تھا آپ نے اپنی زنبیل لے لی اور اس حبشی کو چھوڑ دیا تو آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : میں نے اس کی پردہ پوشی کی شاید اللہ مجھ پر بھی پردہ پوشی فرما دے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (سرقة).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (حقته).
(٣) في [جـ، ك، م]: (فاتبعوا).
(٤) في [ط]: (الحائط).
(٥) منقطع؛ عكرمة لا يروي عن عمار.