مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
ما جاء في التشفع (للسارق) باب: ان روایات کا بیان جو چور کی سفارش کرنے کے بارے میں منقول ہیں
٢٩٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن طلحة عن أمه عائشة بنت مسعود بن الأسود عن أبيها مسعود قال: لما سرقت المرأة تلك القطيفة من بيت رسول اللَّه ﷺ أعظمنا ذلك وكانت المرأة (من) (١) قريش، ⦗٣٣٤⦘ فجئنا إلى النبي ﷺ نكلمه وقلنا: نحن نفديها بأربعين أوقية، قال [رسول اللَّه ﷺ (٢): "تطهر خير لها"، فلما سمعنا لين قول رسول اللَّه ﷺ أتينا أسامة فقلنا: كلم رسول اللَّه ﷺ، فلما رأى رسول اللَّه ﷺ ذلك قام خطيبا فقال: "ما إكثاركم علي في حد من حدود اللَّه وقع على أمة من إماء اللَّه، والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت رسول اللَّه ﷺ نزلت بالذي [نزلت (به) (٣)] (٤) لقطع محمد يدها" (٥).حضرت مسعود فرماتے ہیں کہ جب اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے چادر چوری کی تو ہم نے اس بات کو بہت بڑا سمجھا، اور اس عورت کا تعلق قریش سے تھا پس ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بات چیت کرنے کے لیے آئے اور ہم نے عرض کی : ہم اس عورت کا چالیس اوقیہ چاندی فدیہ دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ پاک ہوجائے یہ اس کے لیے بہت رہے۔ جب ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نرم بات سنی تو ہم حضرت اسامہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آئے اور ہم نے کہا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں بات کریں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اللہ کی سزاؤں میں سے ایک سزا کے بارے میں مجھ پر کیوں اپنی تعداد کو بڑھا رہے ہو جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر ثابت ہوچکی ہے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس مقام پر اترتی جس مقام پر آج یہ عورت اتری ہے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔