مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
ما جاء في التشفع (للسارق) باب: ان روایات کا بیان جو چور کی سفارش کرنے کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 29935
٢٩٩٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرواسي عن هشام عن أبي (حازم) (١) أن عليًا شفع لسارق (فقيل) (٢) له: تشفع لسارق؟ (فقال) (٣): نعم، إن ذلك يفعل ما لم يبلغ (به) (٤) الإمام، [فإذا بلغ (به) (٥) الإمام] (٦) فلا أعفاه اللَّه [(إن) (٧) عفاه] (٨) (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک چور کی سفارش کی تو آپ سے پوچھا گیا : کیا آپ چور کی سفارش کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! بیشک ایسا کیا جاسکتا ہے جب کہ اسے امام تک نہ پہنچا دیا گیا ہو اور جب امام کے پاس پہنچ جائے تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کریں گے اگر اس نے اسے معاف کردیا ۔
حواشی
(١) في [أ]: (جازم).
(٢) سقط من [جـ].
(٣) في [جـ]: بياض.
(٤) في سقط من [هـ].
(٥) سقط من [هـ].
(٦) سقط من [ط].
(٧) في [أ، ط، هـ]: (إذا).
(٨) سقط من [جـ].
(٩) منقطع؛ أبو حازم لم يدرك عليًا.