٢٩٨٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن قابوس بن المخارق عن أبيه قال: أتى النبي ﷺ رجل فقال: يا رسول اللَّه الرجل يأتيني يريد مالي، قال: " (ذكره) (١) باللَّه"، قال: فإن لم يذكر، قال: "فاستعن عليه بمن حولك من المسلمين"، قال: فإن لم يكن حولي أحد من المسلمين؟ قال: "فاستعن عليه ⦗٣١٩⦘ بالسلطان"، قال: فإن نأى عني السلطان؟ قال: "فقاتل دون مالك حتى تمنع مالك (و) (٢) تكون في شهداء الآخرة" (٣).حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جو آدمی میرے مال کے ارادے سے میرے پاس آئے تو میرے لیے کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اسے اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرو اس نے عرض کی، اگر وہ نصیحت نہ پکڑے تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو پھر تم اس کے خلاف اپنے اردگرد موجود مسلمانوں سے مدد مانگو، اس نے عرض کی اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم بادشاہ سے اس کے خلاف مدد مانگو اس نے عرض کی اگر بادشاہ مجھ سے دور ہو تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اپنے مال کی حفاظت کرلو اور تم آخرت کے شہدا میں ہوجاؤ۔