مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
قوله (تعالى): ﴿وإن كان من قوم بينكم وبينهم ميثاق﴾ باب: اللہ رب العزت کے قول: وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق کی تفسیر کا بیان
٢٩٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معاوية) (١) بن هشام قال: حدثنا عمار ابن (رزيق) (٢) عن عطاء بن السائب عن أبي يحيى عن ابن عباس ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ قال: كان الرجل يأتي النبي ﵇ (٣) فيسلم، ثم يرجع إلى قومه فيكون فيهم وهم مشركون، فيصيبه المسلمون خطأ في سرية أو غزاة، فيعتق الذي يصيبه رقبة ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ﴾ قال: هو الرجل يكون معاهدا -ويكون قومه أهل عهد- فيسلم إليهم الدية، ويعتق الذي أصابه رقبة (٤).حضرت ابو یحییٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت : { فَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ } کے بارے میں فرمایا : ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا، اس نے اسلام قبول کرلیا وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گیا۔ پس وہ اپنی قوم میں تھا اور اس کی قوم مشرک تھی کہ مسلمانوں نے کسی سریہ یا غزوہ میں غلطی سے اس کو قتل کردیا تو اس کو مارنے والے نے ایک غلام آزاد کردیا اور آیت : { وَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ} کے بارے میں آپٖٖ نے فرمایا : وہ آدمی حلیف تھا اور اس کی قو م سے معاہدہ تھا ان کو دیت ادا کی گئی اور اس کو مارنے والے نے ایک غلام آزاد کیا۔