حدیث نمبر: 29846
٢٩٨٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قتل رجل على عهد رسول اللَّه ﷺ فرفع ذلك إلى النبي ﷺ فدفعه إلى ولي المقتول، فقال القاتل: يا رسول اللَّه (١) ما أردت قتله، قال: فقال النبي ﷺ للولي: "أما (٢) إن كان صادقا ثم (قتلته) (٣) دخلت النار"، قال: فخلى سبيله، قال: وكان مكتوفًا بنسعة، قال: فخرج يجر نسعته، قال: فسمي ذا النسعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں قتل کردیا سو یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مقتول کے سرپرست کے حوالہ کردیا قاتل نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرپرست سے فرمایا : اگر یہ سچا ہوا پھر تم نے اس کو قتل کردیا تو تم جہنم میں داخل ہوگے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے اس کا راستہ خالی کردیا یعنی معاف کردیا اور اس قاتل کی تسمہ سے مشکیں بندھی ہوئی تھیں پس وہ نکلا اس حال میں کہ و ہ اپنے تسمہ کو گھسیٹ رہا تھا اس کا نام ہی تسمہ والا پڑگیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (واللَّه).
(٢) في [هـ]: زيادة (إنه).
(٣) في [أ، ب، ط]: (قتله).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29846
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو داود (٤٤٩٨)، والترمذي (١٤٠٧)، والنسائي ٨/ ١٣، وابن ماجه (٢٦٩٠)، وأبو عوانة (٦١٩٣)، والطحاوي في شرح المشكل ٢/ ٤٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29846، ترقيم محمد عوامة 28577)