حدیث نمبر: 29845
٢٩٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عوف عن حمزة (أبي) (١) عمر عن علقمة بن وائل عن أبيه قال: شهدت رسول اللَّه ﷺ حين (أتي) (٢) بالقاتل يجر في نسعته، فقال رسول اللَّه ﷺ: لولي المقتول: "أتعفو عنه؟ "، قال: لا، قال: "أفتأخذ الدية؟ "، قال: لا، قال: "فتقتله؟ "، قال: نعم، فأعاد عليه ثلاثًا فقال له رسول اللَّه ﷺ: "إن عفوت عنه فإنه يبوء بإثمه"، قال: فعفى، فرأيته يجر نسعته قد عفى عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت وائل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا قاتل کو لایا گیا اسے اس کے تسموں میں گھسیٹا جا رہا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتول کے سرپرست سے فرمایا : کیا تم اسے معاف کروگے ؟ اس نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم دیت لو گے ؟ اس نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کو قتل کرو گے ؟ اس نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اس بات کو تین بار دہرایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : اگر تم اس کو معاف کردو گے تو یہ اپنے گناہ کا بوجھ اٹھا کر پھرے گا راوی کہتے ہیں : پس اس شخص نے معاف کردیا اور میں نے اس قاتل کو دیکھا کہ وہ اپنے تسمہ کا ٹکڑا گھسیٹ رہا تھا، تحقیق اسے معاف کردیا گیا تھا۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (ابن)، وفي [ط]: (أو).
(٢) في [ط]: (أوتي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29845
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ حمزة هو ابن عمرو العائذي ثقة على الصحيح، وأخرجه مسلم (١٦٨٠)، وأبو داود (٤٤٩٩)، والنسائي (٨/ ١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29845، ترقيم محمد عوامة 28576)