مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
إن المسلمين تتكافأ دماؤهم باب: مسلمانوں کے خون آپس میں برابر و یکساں ہیں
٢٩٨١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن مجاهد عن ابن عباس قال: كان في بني إسرائيل القصاص ولم تكن فيهم الدية، فقال اللَّه لهذه الأمة: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾ (١)، فالعفو أن (تقبل) (٢) ⦗٢٩٨⦘ الدية في (العبد) (٣) ﴿ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ﴾، قال: فعلى هذا أن يتبع بالمعروف، وعلى (ذاك) (٤) أن يؤدي ﴿إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (٥) [البقرة: ١٧٨].حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا اور ان میں دیت مشروع نہیں تھی۔ اللہ رب العزت نے اس امت کے لیے ارشاد فرمایا : ترجمہ :۔ فرض کردیا گیا ہے تم پر مقتولوں کا قصاص لینا آزاد کو قتل کیا جائے گا آزاد کے بدلے میں اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں سو وہ شخص جس کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے قصاص میں کچھ تو لازم ہے اس پر پیروی کرنا معروف طریقے کی اور ادا کرنا مقتول کے ورثاء کو احسن طریقے سے۔ سو آیت میں عفو سے مراد یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت قبول کرلی جائے۔ آیت ترجمہ : یہ رعایت ہے تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے۔ آپ نے فرمایا : سو اسی بنیاد پر لازم ہے کہ پیروی کرے معروف طریقے کی اور اس پر لازم ہے کہ مقتول کے ورثاء کو احسن طریقے سے ادا کردے۔ آیت ترجمہ : پھر جو زیادتی کرے اس کے بعدتو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔